Post
Topic
Board Other languages/locations
Re: Pakistan
by
Jameel787
on 10/05/2021, 05:25:19 UTC

ایمازون

اکثر لوگوں کو یہ علم نہیں پتہ کہ آٹھ دس سال پہلے (12-2011)تک ایمازون پر پاکستانی نیشنلز کو سیلر اکاؤنٹ بنا کر کاروبار کرنے کی اجازات تھی جو ایمازون نے اپنے کسٹمر کی ہزاروں لاکھوں کمپلینٹس اور شکایت کے بعد پاکستانی نیشنلز کو اپنے پلیٹ فارم سے بین کر دیا تھا کہ وہ وہاں اکاؤنٹ نہیں بنا سکتے

ایمازون کے اس فیصلے کی چند ایک وجوہات اور بنیادی شکایات در ذیل ہیں تھیں:
پاکستانی سیلرز نے اپنے آرڈرز میں کم وزن کو پورا کرنے کےلیے پتھر اور سستی وزنی چیزیں ڈال کر پارسل کرنا شروع کر دیں تھیں!

ایمازون کی ایک ریٹرن پالیسی ہے کہ کوئی بھی چیز کسٹمر کو پسند نہ آے خریداری کے بعد تو وہ چیز وہ بغیر کسی وجہ بتاے دیے گے وقت اور مدت تک واپس کر کے اپنی پوری رقم لے سکتا ہے پاکستانی کاروباری اور دوکاندار وتاجروں کےلیے تو یہ بات ایک کاروبار کا گولا ہے جہاں ہر دوسری دوکان پر لکھا ہوتا ہے کہ خریدی ہوئی چیز واپس نہیں ہوگی اور نان ریفنڈایں بل ہے جبکہ ویسٹرن مارکیٹ اس چیز کی عادی ہے کہ چیز واپسں کر کے پوری رقم واپس لی جاسکتی ہے چاہے وہ کپڑے ہی کیوں نا ہوں تو جب پاکستانی ٹریڈرز اور سیلرز  کو ویسٹرن کسٹمر چیز واپس کرتے تھے تو وہ لینے ہی سے انکار کر دیتے تھے یا آئیں بائیں شائیں اور آگے سے بحث کرتے تھے ویسٹرن کسٹمرز نے ثبوتوں کے ساتھ ایمازون کو ہزاروں ایسی کمپلینٹس کیں!
 
پاکستانی پراڈکٹس کے پارسلز جو ریٹرن ہوتے تھے وہ غائب ہو کر اوپن مارکیٹ میں ایمازون کے لیبلز کے ساتھ بلیک میں نیلام ہونے شروع ہو گے تھے

پاکستانی بزنس مین ٹریڈرز اور شاپ کیپرز اکثر اچھی اور ٹائملی کیونیکشن سے نابلد ہوتے ہیں تو یہ کسٹمر کی ای میلز انکوائری اور کمپلینٹس کا ہفتوں مہینوں جواب ہی نہیں دیتے تھے جب جواب دیتے تھے تو بد اخلاق جواب دیتے تھے بغیر کرٹسی کے یا بحث براے بحث کرتے تھے اس طرح کسٹمر سے ریلیشن شپ خراب کر بیٹھتے تھے
پاکستانی سیلرز تصوریں بہت خوبصورت لگاتے تھے جب کے اصل پراڈکٹس جب کسٹمر کو ملتی تھی وہ بہت مختلف نکلتی تھی شکل اور کوالٹی میں ان تصاویر سے اس کی بھی ہزاروں کیمپلینٹس کسٹمر نے ایمازون کو کیں
یہ چند بنیادی وجوہات اور کمپلینٹس تھیں جو ایمازون کو اس کی ہزاروں لاکھوں کسٹمرز نے ثبوتوں کے ساتھ دیں اور اکثریت پاکستانی نیشنل سیلرز کی تھی اس سب کو ریویو کرکے اور متعدد وار ننگز دینے کے بعد ایمازون نے ایگزیکٹو فیصلہ کرکے پاکستانی نیشنلز کو بین کر دیا کہ وہ اپنا سیلر اکاونٹ انکی مارکیٹ پلیس پر نہی کھول سکتے
پاکستانی کاروباری بھی جگاڑ اور چکمہ دینے میں ماہر ہیں پھر ہوا یہ کہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ وہ اپنے کسی مامے چاچے خالہ پھپھو کے نام سے جو امریکہ برطانیہ یا یورپ میں رہتے تھے اور پاسپورٹ ہولڈر تھے وہاں پر انکے نام سے ایمازون پر بزنس سیلر اکاونٹ کھلوا لیتے تھے اور آپریٹ خود پاکستان سے کرتے تھے وی پی ان لگا کر کیونکہ ایمازون کا آرٹیفشل انٹیلیجنس سسٹم آئی پی ٹریک کر لیتا ہے کہ اکاونٹ کس ملک سے لاگن یا آپریٹ ہو رہوہا ہے اس طرح ڈھکے چھپے یہ کام چل رہا تھا اور پراڈکٹس کی انکم بھی وہ امریکہ برطانیہ یا دبئ کے اکاونٹ میں منگوا کر وہاں سے پاکستانی ہنڈی کرواتے تھے

اب آخر کار سالوں بعد ایمازون کے منتیں ترلے کرے یہ اجازات دوبارہ حاصل کر لی گئ ہے تو امید ہے اس بار پاکستانی کاروباری  شاپ کیپر ٹریڈرز ایمازون کا کسٹمر اور کاروبار سے متعلق ہر اصول فالو کریں گے اور جلد بازی برے رویے فراڈ اور فوری زیادہ منافع لینے کے چکروں میں دیسی حرکتیں نہی کریں گے کہ دوبارہ کسٹمر کمپلینٹس آئیں ثبوتوں کے ساتھ ایمازون ہیڈ آفس کو اور وہ پاکستان کو پھر بین کر دے
ایمازون کا پاکستان میں آنا اتنا بڑا کارنمہ نہی ہے بلکہ اسے صحیح کاروباری اور کسٹمر اصولوں کے مطابق چلانا اور آگے بڑھانا زیادہ بڑا مسلہ ہے جو پاکستان میں کاروباری حصْرات شاپ کیپرز اور ٹریڈرز کے بہتر کاروباری اصول و رویے اور اچھی کسٹمر سروس سے مشروط ہے!
امید کی جاسکتی ہے کہ پچھلی بار کے بین سے  کچھ سبق حاصل کر لیا ہوگا!